ZNZ Novels – Discover the latest Urdu novels, love stories, and emotional tales by popular Urdu writers. Read complete and ongoing romantic novels online at Zubi Novels Zone.

پیڈ گروپ جوائن کریں

مکمل ناولز، ای بکس اور پریمیم مواد تک رسائی حاصل کریں

1000 700

Breaking

Search For Fev Novel

Sunday, April 26, 2026

Panah By Nabila Aziz Complete - ZNZ NOVELS

Panah By Nabila Aziz Complete - ZNZ NOVELS


وہ مسلسل تین گھنٹوں سے دلہن بنی ایک ہی انداز میں بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی لیکن وہ اس کے انتظار سے بے خبر اور لاپروا نجانے کہاں گم تھا کہ اپنے بیڈ روم میں آنے کا بھی ہوش نہیں تھا اور مائدہ بھی جیسے تہیہ کیے بیٹھی تھی کہ اس کے دیکھے بنا نہ تو چینج کرے گی اور نہ ہی سوئے گی۔ صبح کے چار بج چکے تھے جب وہ نشے میں غرق بو جھل قدم اٹھاتا ہوا بیڈروم میں داخل ہوا تھا اور اس کے بے ربط قدموں پہ اس کی دل کی دھڑکنیں بھی بے ربط ہو گئی تھیں۔ اس کے تھکے تھکے اعصاب پہ پنجے جماتی نیند ایکدم سے ہوا ہو گئی تھی۔

وہ جو ذرا سا تکیہ کا سہارا لیے بیٹھی تھی اسے دیکھ کر فوراً "سیدھی ہو بیٹھی"۔ افگن افروز بھی سیدھا بیڈ کی سمت آیا اور اپنا موبائل فون جیب سے نکال کے بیڈ پہ اچھالتے ہوئے خود بھی وہیں ڈھیر ہو گیا تھا۔ مائدہ بیڈ کے وسط میں بیٹھی ہوئی تھی اور وہ بیڈ پہ اس کے سامنے آڑا ترچھا لیٹا ہوا تھا۔ اس نے تو مائدہ کو اک نظر دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کی تھی، بلکہ آنکھیں بند کیے جیسے وہیں سونے کی کوشش کر رہا تھا۔

"آپ یہاں آکر صحیح سے سو جائیں۔ میں اٹھ جاتی ہوں۔" مائدہ نے اسے ڈرتے ڈرتے اور دھڑکتے دل سے مخاطب کیا تھا۔

"اٹھنے کی کیا ضرورت ہے۔ بیٹھی رہو، رات ابھی ختم نہیں ہوئی۔" افگن اپنے بالوں میں ہاتھ پھنساتے ہوئے اٹھ بیٹھا۔

"آپ تھکے ہوئے لگ رہے ہیں سو جائیں۔" مائدہ کو اس کے منہ اور کپڑوں سے اٹھنے والی بو سے اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ ڈرنک کر کے آیا ہے۔

"تم تو نہیں تھکیں نا؟" افگن نے اپنے ہاتھ سے اس کے گال کو تھپتھپاتے ہوئے کہا تھا اور مائدہ کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا۔

"افگن! آپ یہ کیا۔۔۔؟"

"مت نام لو میرا۔ برداشت نہیں ہو گا مجھ سے وہ بھی۔۔۔ وہ بھی اسی طرح نام لیتی تھی میرا۔ شادی کی پہلی رات بھی اس نے اسی طرح پکارا تھا اپنی۔۔۔ اپنی محبتوں کے یقین۔۔۔ جھوٹے یقین دلائے تھے اس نے جھوٹی تھی وہ اور تم بھی جھوٹی ہی ہو، اسی کی طرح دھوکے باز، بے وفا اور مرد کی دولت پہ ایمان ہو تم! عورت کو صرف دولت ہی نظر آتی ہے چاہے وہ افگن افروز کی ہو یا جمال پیرزادہ کی۔"

افگن نفرت و حقارت سے بول رہا تھا اور مائدہ کا دل وہیں بند ہو گیا، جہاں اس نے اپنی "اس" کا ذکر کیا تھا۔ آج کی رات بھی وہ اسی کا غم منا رہا تھا۔ اسے سامنے بیٹھی سجی سنوری دلہن بنی مائدہ نظر ہی نہیں آ رہی تھی مائدہ کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے کر مسل دیا تھا۔ بے شک اس کی شادی کافی عجیب حالات میں ہوئی تھی لیکن اس بیچ پہ آ کر تو اس کے دل کے ارمان بھی وہی ہو گئے تھے جو باقی عام لڑکیوں کے ہوتے ہیں اور اس کی آمد سے پہلے وہ انہی ارمانوں اور خوابوں کی محفل سجائے بیٹھی تھی۔۔۔ لیکن اب۔۔۔!

"آپ کی طبیعت اس وقت ٹھیک نہیں ہے۔ آپ آرام کریں۔ میں چینج کر کے آتی ہوں۔" مائدہ اپنا دوپٹہ اور لہنگا سنبھالتی ہوئی بیڈ سے اترنے لگی۔

"کچھ نہیں ہوا میری طبیعت کو، میری طبیعت روز ایسی ہی ہوتی ہے۔" افگن نے اس کی کلائی پکڑ کر اسے روک لیا۔

"مطلب۔۔۔ آپ روز ڈرنک کرتے ہیں؟" مائدہ نے پریشانی سے بے ساختہ کہہ دیا تھا۔

"روز نہیں بس جب اسے دیکھتا ہوں۔" وہ استہزائیہ ہنسا تھا۔

"تو آج کہاں دیکھ لیا اسے۔۔۔؟" حیرت تھی مائدہ سوال پہ سوال کر رہی تھی۔

"تمہارے اس روپ میں، اس کمرے میں، اس بیڈ پہ، ہر جگہ وہی تو نظر آ رہی ہے۔ دھوکے باز، جھوٹی اور مکار عورت۔۔۔ دل چاہ رہا ہے اس بیڈ اور کمرے سمیت تمہیں بھی آگ لگا دوں ہم سب تڑپتے ہی رہو۔" افگن افروز نے اسے بالوں سے دبوچ لیا تھا اور مائدہ اپنے لبوں سے ابھرنے والی ہلکی سی آواز بھی دبا گئی تھی۔

"اگر آپ کے سینے میں جلنے والی آگ اسی طرح بجھتی ہے تو بجھا لیں، ماریں مجھے، ٹھنڈا کریں اپنے آپ کو۔" مائدہ نے اسے کھلی چھوٹ دی اور افگن افروز نے اس چھوٹ کا بھر پور فائدہ اٹھا لیا۔ اسے اپنی درندگی اور وحشت کا نشانہ بنا کر وہ زیادہ تو نہیں لیکن چند لمحوں کے لیے پرسکون ہو گیا تھا۔۔۔!

"السلام علیکم وادی بی!" مائدہ فجر کی نماز پڑھنے کے بعد سیدھی ان کے کمرے میں آئی تھی۔

"وعلیکم السلام! جیتی رہو، سہاگن رہو اتنی جلدی کیوں اٹھ گئیں؟" وہ اس کے سر پہ ہاتھ پھیر کر ماتھے پہ بوسہ دیتے ہوئے بولی تھیں۔

"نماز کے لیے اٹھی ہوں اور مجھے پتا تھا آپ کی نماز اکثر قضا ہو جاتی ہے اس لیے سوچا آپ کو بھی وضو کروا دوں۔" مائدہ کا لہجہ پرسکون تھا۔ بے شک افگن افروز نے رات بھر اسے اذیت دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی لیکن پھر بھی آج زندگی کی نئی صبح کا آغاز کرتے ہوئے وہ مطمئن تھی وہ آزادی کی سانس لے رہی تھی۔ وہ عزت سے سر اٹھا کے چل رہی تھی۔ آج اس پہ کسی نے حق جتایا تھا تو وہ کوئی غیر اور نامحرم نہیں تھا، اس کا اپنا شوہر تھا۔

"عیشل۔۔۔! عیشل۔۔۔! میرا ناشتہ؟" افگن آفس جانے کے لیے تیار ہو کر نیچے آ چکا تھا اور عیشل کو آوازیں دے رہا تھا مگر ہمیشہ کی طرح وہ سن ہی نہیں رہی تھی۔ اسی لیے اسے خود کچن میں جھانکنا پڑا لیکن وہاں موجود ہستی کو دیکھ کر اس کے الفاظ جامد ہو گئے تھے۔

"آپ بیٹھیں۔ میں ناشتہ لے کر آ رہی ہوں۔" وہ پراٹھے بنانے کے بعد سلائس سینک رہی تھی۔ ٹوسٹر بند کرتے ہوئے افگن کی سمت پلٹی تھی۔

"علیشال کہاں ہے ۔۔۔؟" افگن نے بات بدل دی۔

"وادی بی کو لینے گئی ہے، وہ بھی ہمارے ساتھ ہی ناشتہ کریں گی۔" مائدہ ٹرے اٹھا کر باہر جانے کے لیے آگے بڑھی لیکن دروازے میں ایستادہ افگن کو دیکھ کر ٹھہرنا پڑا۔

"راستہ دیں پلیز۔" مائدہ نے اسے مخاطب کیا تو وہ...

Panah By Nabila Aziz Complete - ZNZ NOVELS


📚 Explore novels from different categories including:



Panah By Nabila Aziz Complete - ZNZ NOVELS


✨ All novels are available in high-quality PDF format, compatible with Mobile, PC, and Android devices, so you can read anytime, anywhere.


Panah By Nabila Aziz Complete - ZNZ NOVELS


🔍 Visit ZNZ NOVELS to discover more heartfelt Urdu stories by famous writers and enjoy free online reading and downloading.


Panah By Nabila Aziz Complete - ZNZ NOVELS


👉 Stay connected with ZNZ NOVELS for daily updates of the latest Urdu novels and complete stories.


📘 Novel Info

Pages: 23
Size: 11.1 MB
Year: 2026
Language: Urdu
0%

No comments:

Post a Comment