Dildaram By Areej Shah Complete
وہ واقعہ بھولنے والا بھی کہاں تھا؟
ابھی تو صرف تین سال ہی گزرے تھے جب وہ باراتیوں کے ہمراہ ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں جا رہے تھے۔ خوشی، ہنسی مذاق، گانوں کی گونج اور باراتی جوش سے لبریز تھے۔ لیکن خوشی کی وہ ساعتیں چند لمحوں میں قیامت میں بدل گئیں۔
بس ایک سنسان سڑک پر رواں دواں تھی، جب اچانک ان کی بس کے آگے ایک شخص سڑک پر لیٹا ہوا دکھائی دیا۔ سب نے یہی سمجھا، کوئی حادثہ ہو گیا ہے۔ ڈرائیور نے بس روکی اور باہر نکل کر اس شخص کے قریب جانے ہی والا تھا کہ...
اچانک جیسے آسمان پھٹ گیا ہو — درجنوں مسلح افراد چاروں طرف سے بس میں داخل ہو گئے۔
خوفناک شور، عورتوں کی چیخیں، بچوں کی سسکیاں اور مردوں کی گھبراہٹ… سب کچھ ایک ہی لمحے میں بدل گیا تھا۔
دعّام اُس وقت بس کی آخری سیٹ پر تایا کی بیٹی رباب کے ساتھ بیٹھی تھی۔ نیند اس کی پلکوں پر ڈیرے ڈال چکی تھی، لیکن اچانک گھوڑوں کی ٹاپوں اور بندوقوں کی کھچاکھچ نے نیند کو ایسے اڑایا کہ آنکھیں وحشت سے پھیل گئیں۔
بس کے باہر بھی ہلچل تھی، اور پیچھے آنے والی دوسری بس میں بھی باراتی تھے۔ ڈاکو عورتوں سے ان کے زیورات نوچنے لگے، اور مردوں سے والٹ، گھڑیاں، موبائل سب چھین لیے گئے۔
کوئی چیخ رہا تھا، کوئی بچوں کو سینے سے لگائے تھر تھر کانپ رہا تھا۔
اُس لمحے جیسے وقت بھی سہم گیا تھا۔
دعّام کے قریب بھی ایک شخص آیا، لمبی بندوق اس کے شانے پر تھی، آنکھوں میں سرد شعلے۔ اس نے دعّام کو گھورا۔
دعّام نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کانپتی آواز میں کہا،
"میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔"
وہ شخص اسے محض ایک ڈری سہمی بچی سمجھ کر نظر انداز کر گیا۔
لیکن رباب کے کان سے اس نے سونے کی بالیاں نکال لی تھیں… رباب سسک رہی تھی، اور دعّام کی چھوٹی سی روح سہم کر گویا ساکت ہو گئی تھی۔
"سردار، خالی باراتی ہیں، ان کے پاس تو کچھ خاص ملا ہی نہیں… دس لاکھ کا بھی مال نہیں نکلا!"
بس کے باہر سے کسی کی مایوس سی آواز گونجی۔
"بے غیرتوں نے مال چھپا رکھا ہے! نکالو!"
ایک کرخت، گمبھیر آواز ابھری، جو نہ صرف اس کی سماعت پر، بلکہ رگ و پے میں لرزہ سا دوڑا گئی۔
"سرکاری ملازم کی بارات ہے، خالی تھوڑی نہ ہوگی! عورتوں کے بیگ چیک کرو، کم از کم تیس لاکھ کا مال نکلوانا ہے اس بارات سے!"
رباب اس کے پہلو میں رو رہی تھی، اور دعّام کا تو سارا جسم لرز رہا تھا — جیسے روح جسم میں قید ہو کر تڑپ رہی ہو۔
بس کے چاروں طرف دہشت کا راج تھا۔
ان مسلح ڈاکوؤں کے چہروں پر کپڑے بندھے ہوئے تھے، کپڑوں کے رنگ ایک جیسے، چمکتے ہتھیار بیلٹوں میں اٹکے ہوئے، اور گھوڑے کی مسلسل ٹاپوں کی آواز خوف کی موسیقی بجا رہی تھی۔
بس کے باہر ایک گھوڑا مسلسل چکر لگا رہا تھا، اس پر بیٹھا سوار باقیوں سے مختلف تھا — باقی اسے "سردار" کہہ رہے تھے۔ وہ خاموش، گمبھیر، مگر سب سے زیادہ خطرناک تھا۔
اچانک ایک عورت کے ہاتھ سے موبائل چھین لیا گیا، جو پولیس کو کال کرنے ہی والی تھی۔
"ارے ماتا جی، جان کیوں گنوا رہی ہو؟ یہ پولیس والے تو ہمارے ہی دلال ہیں۔ دس پرسنٹ کمیشن کھاتے ہیں، آئیں گے نہیں!"
وہ ہنسا، موبائل کی سکرین بند کی اور اسے اپنے ایک ساتھی کی طرف بڑھا دیا۔
لیکن جیسے ہی اس کی نظر سکرین کے پیچھے موجود دعّام پر پڑی، وہ لمحے بھر کو رک گیا۔
دعّام کی آنکھوں میں خوف تھا، جسم جیسے پتھر کا ہو گیا ہو۔
اور سردار…اس کی سرخ انگار آنکھیں جیسے دعّام کی روح میں اتر گئیں۔
دعّام ایک دل دہلا دینے والی چیخ مار کر رباب کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرنے لگی۔
"میڈا بھولا سائیں ڈر گیا کاکے…؟"اچانک سردار کے لہجے میں عجب سی نرمی اتر آئی۔
"چہرے سے کپڑا ہٹاؤ سونیو، دیدار تو کرنے دو… آنکھیں تو غضب کی پائیں ہیں!"وہ کھڑکی کے قریب آ کر ذرا سا جھکا، جیسے اس معصوم چہرے کو مزید قریب سے دیکھنا چاہتا ہو۔
دعّام لرزتی، کانپتی، رباب کے وجود میں چھپنے لگی۔
"بچی ہے… ڈاکو جی… بچی ہے!"
باراتیوں میں سے ایک مرد نے ہمت کرکے کچھ کہا۔ سردار نے اسے خطرناک نظروں سے گھورا۔
"تیری بچی ہے؟"اس کی آنکھوں میں ایسی وحشت تھی کہ سامنے والا لریز اٹھا
"نہیں… نہیں… میری نہیں ہے۔" وہ فوراً پیچھے ہٹ گیا۔
"تو تجھے مرچیں کیوں لگ رہی ہیں؟ باپ بھائی کہاں ہیں بچی کے؟ یا سب کے سب پستول کی نوک پر غیرت دفن کر آئے ہیں؟"
"یہ… یتیم بچی ہے… نہ باپ ہے نہ بھائی… سر پر بس تایا اور چاچا ہیں، وہ بھی دوسری بس میں ہیں۔"ایک اور آواز ابھری تھی،
"اچھا… یتیم ہے؟"سردار کے چہرے پر ایک عجب سی مسکراہٹ آئی۔
"کوئی نہیں ہے اس کا…؟ خیر، اب ہے!"
وہ ایک لمبی سانس لیتے ہوئے کہنے لگا،
"میرا سوہنا مکھڑا ،سن لو سب آج سے سردار دلدار یلغار اس کا سرپرست ٹھہرا۔ اس کے تائے چاچے کو میرا پیغام دے دینا… یہ میری امانت ہے۔ جس دن نکاح کے قابل ہوئی، لے جاؤں گا!"
دعّام کی آنکھوں سے بہتا خوف رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا، لیکن سردار نے آخری بار اسے دیکھا، سامان کی پوٹلی اٹھائی، اور بس میں واپس پھینک گیا۔
"سجن سائیں…"تاڑے سائیں نے صدقہ اتارا ہے تاڑا!"سردار دلداریلغار کی امانت ہو، یہ بات یاد رکھنا ،ورنہ یاد دلانے کے لیے آتا رہوں گا ۔سردار آخری بار پلٹ کر مسکرایا، پھر گھوڑا موڑ کر جنگل کی طرف روانہ ہو گیا۔ گھوڑوں کی آوازیں دیر تک سنائی دیتی رہیں… اور پھر سناٹا چھا گیا۔
بارات واپس اپنے زیورات اور سامان سمیٹنے لگی، کچھ دن بعد سب اپنی زندگیوں میں مگن ہو گئے…
مگر اگر کوئی وہ واقعہ نہ بھول سکا،
تو وہ تھی دعّام…جسے سردار دلدار "اپنی امانت" کہہ کر گیا تھا۔
وہ رات…ایک یاد نہیں، ایک زخم بن گئی تھی۔
اور کچھ زخم وقت کے ساتھ نہیں، وقت کے اندر دفن ہو جاتے ہیں… مگر جب وہ یاد آتے ہیں، روح کا گوشت نوچ لے
Welcome to the List of Areej Shah Novels section on UrduNovelBook! Here, we have a complete Collection of Areej Shah’s popular Novels for Urdu readers. Areej Shah is well-known for her romantic and suspenseful storytelling, and her novels are loved by readers all over Pakistan and beyond. Each story is full of emotions, unforgettable characters, and gripping plots that will keep you hooked.
You will find a variety of Areej Shah novels in this section, including her well-known love stories and thrilling suspense novels. If you’re a fan of her writing or looking for a new favorite, this is the perfect place to start. Browse through the list, pick your favorite titles, and dive into the beautiful world of Urdu literature by Areej Shah.
DILBARAM by Areej Shah is a powerful novel. It is about pain, love, and change. The hero is cold and angry, but the girl’s kindness changes him. This shows us that no one is too broken to be healed. Sometimes, all we need is someone who cares. Young readers will enjoy this book. It is written in simple words, but the message is strong. If you like stories that make you feel something deep inside, this novel is a must-read.
Download complete collection of romantic, spiritual, forced marriage, post-marriage, sad, and social-issue novels in PDF written by the renowned Pakistani Urdu author Areej Shah. Known for her gripping storytelling and deep emotional narratives, Areej Shah explores complex themes that resonate with readers. Her works delve into the intricacies of love, societal challenges, and personal transformations, making them a must-read for those seeking compelling and thought-provoking Urdu literature.

No comments:
Post a Comment