Milne Ki Ghari Jo Thehri Hai By Rizwana Ameer Ul Haq Complete - ZNZ NOVELS
انہوں نے اس کے ہاتھ سے ریموٹ لے کر ٹی وی آف کیا برائے نام کپڑے جسم پر چپکائے جھولتی ڈولتی حسینہ کو اسکرین سے غائب کیا تو وہ چونک پڑی۔ خفت کا رنگ طلال کو دیکھتے ہی چہرے پر لہرایا تھا۔ اب ضرور یہ کچھ نہ کچھ کہیں گے۔
”میں دستک دے کر اندر آیا ہوں۔۔۔۔ لیکن تم شاید اتنی مگن تھیں کہ سن نہ سکیں۔“ وہ اس کی جزبز ہوتی خفت زدہ شکل دیکھ کر سنجیدگی سے بولے۔ وشمہ نے کن اکھیوں سے دیکھا۔۔۔۔ چہرے سے اندازہ نہ ہوا کہ غصہ میں ہیں یا نہیں۔ البتہ وشمہ پر اس وقت گھڑوں پانی پڑ گیا تھا۔ دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔ ”کیا سوچ رہے ہوں گے طلال بھائی۔۔۔۔ میں یہ بے ہودہ چینلز بڑے شوق سے دیکھتی ہوں۔“ طلال کے آگے صفائی دینے کی ہمت بھی نہ ہو رہی تھی۔
”اٹھ کر لائٹ آن کرو۔۔۔۔“ طلال کے کہنے پر اسے ابھی لاؤنج کی تاریکی کھٹکنے لگی تھی۔ سرعت سے اٹھ کر اس نے کھڑکی کے پردے سمیٹ کر لائٹ بھی آن کر دی۔
اب وہ دوبارہ سر جھکا کر بیٹھ گئی تھی۔ مزید کچھ دیر خاموشی طاری رہی تو اسے طلال کی طرف سے الجھن محسوس ہونے لگی۔ اب تک انہوں نے کتاب کھولنے کو بھی نہیں کہا تھا۔ ورنہ وہ ذرا سی بھی اس وقت آیں بائیں شائیں کرتی تو وہ اسے فوراً ”ٹائم ویسٹ“ ہونے کا احساس دلاتے تھے۔
طلال کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ ادب تمیز و تہذیب سے کب اس لڑکی کا واسطہ پڑے گا۔ یہ وقت اس کے پڑھنے کا تھا اور وہ بیٹھی لچر قسم کے پروگرام دیکھ رہی تھی۔ کوئی ایک بات کوئی ایک خوبی تو اس میں ایسی نظر آئے جس پر انہیں خوشی محسوس ہو۔۔۔۔ اس کے برعکس وہ تمام عادتیں اس میں بدرجہ اتم موجود تھیں جن پر نکتہ اعتراض اٹھے۔۔۔۔ اور وہ بھی دھڑلے سے اعتراض کرتے تھے۔
وہ ہاتھ گود میں رکھے انگلیاں مروڑتی گویا طلال کی طرف سے کچھ کہنے کی ہی منتظر تھی۔
”کتابیں کھولو۔“ بالآخر ایک گہری طویل سانس لے کر وہ گویا ہوئے۔ وشمہ تو یوں نظریں چرائے بیٹھی تھی جیسے اچانک چوری کرتے پکڑی گئی ہو۔ وشمہ نے حیرت سے طلال کو دیکھا تھا۔ ان کا لہجہ عام دنوں سے ہٹ کر بے حد دھیما تھا۔ اس کے لیے جو مخصوص لہجہ تھا ان کا اور مخصوص جملہ ”دکھاؤ ذرا آج کیا کیا معرکے سر کیے ہیں۔“ بھی نہیں کہا تھا۔ وہ ذرا سا کھسک کر آگے کو ہوئی اپنے اور ان کے بیچ کتابیں رکھ کر اضطراب سے پلکیں جھپکاتے ہوئے بولی۔
”طلال بھائی میں آپ کا ہی انتظار کر رہی تھی۔“ اس کے انداز میں ایک بے چینی سی تھی کہ کسی طرح طلال کی غلط فہمی دور کردے۔
”پھر بے مقصد ہی چینل تبدیل کرتے ہوئے کسی سوچ کے دھیان میں۔۔۔۔ مجھے آپ کے آنے کا پتا ہی نہ چلا۔“ طلال نے دیکھا کہ پشیمانی اس کے چہرے سے ظاہر ہو رہی تھی۔
”تو گویا یہ ارادی حرکت نہ تھی۔۔۔“ وشمہ کے جھجک آمیز سچ نے جانے کیوں ایک دم ہی ان کی تناؤ اور برہمی کی کیفیت ختم کر دی تھی۔ ریلیکس ہو کر صوفے کی بیک سے پشت ٹکاتے ہوئے انہوں نے بغور اسے دیکھا تھا۔
”سنو وشمہ! نفس کے بے لگام بھڑکتے ہوئے ہیجانوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے ہم پر کچھ اخلاقی حدود و قیود عائد ہوتی ہیں۔ بہترین اعمال ہمارے اچھے نفس اور کردار کی پہچان بنتے ہیں۔۔۔“ وہ کہنے سے پھر بھی خود کو باز نہ رکھ سکے تھے ان کا نرم لہجہ بن کر وشمہ کا اعتماد متوازن ہونے لگا۔ حوصلے کو کمک پہنچی سو کچھ لاپرواہی سے بولی۔
”یہ ایک فضول سا اتفاق تھا سر۔۔۔! اور پھر سنگر بھی میرے جیسی لڑکی ہی تھی۔۔۔۔ میں اگر تنہا۔۔۔“
”شٹ اپ وشمہ۔۔۔!“ اس کی بے تکی بات پر ایک بار پھر ان کے چہرے پر برہمی کے آثار نمودار ہوئے تھے۔ سو پوری بات سے پہلے ہی اسے ٹوک دیا تھا۔
”شرم تو تمہیں آتی نہیں ان لڑکیوں سے خود کو کمپیئر کرتے ہوئے۔ چوری چوری ہوتی ہے۔ تنہائی میں کی جائے یا افراد کی موجودگی میں۔۔۔۔ انسان وہ کام ہی کیوں کرے جس کے کرنے پر اس کا ضمیر اسے شرمندہ کرے۔۔۔“ وشمہ نے لب دانتوں تلے دبا لیے فوراً ہی اسے اپنی بے تکی توجیہہ کا احساس ہو چلا تھا۔ ساتھ ہی کوفت بھی ہونے لگی کہ کیسے ٹھنڈے ٹھنڈے لہجے میں لفظوں کی مار مار رہے ہیں۔ مجال ہے جو اپنے فرض کی ادائیگی میں چوک جائیں۔ میری بھی شامت ہی آئی ہے آج۔
”اس قسم کے بے ہودہ پروگرامز لوگوں کو ذہنی، جسمانی و اعصابی نقصان پہنچا کر جس قدر تیزی سے اخلاقی تنزلی کا شکار کر رہے ہیں تو اس کے بعد۔۔۔“ وہ کچھ کہتے کہتے خاموش ہو گئے یاد آگیا کہ ان کے سامنے اس وقت کون ہے۔۔۔ پھر قدرے جھنجھلا کر گویا ہوئے۔
”تمہاری جو عمر ہے۔ عقل نام کی کوئی چیز نہیں ہے تم میں۔۔۔۔ اب تمہیں کیا سمجھاؤں۔“
”بچی نہیں ہوں میں۔۔۔“ وہ خود پر ان کے بے لاگ تبصرے سے بلبلا اٹھی تھی۔
”ہوں۔۔۔ دیکھ رہا ہوں۔ بچی نہیں رہی ہو اب لیکن۔۔۔“ وہ اچانک ہی اٹھ کھڑے ہوئے۔ ”اپنی دے آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ جو کچھ سیکھ چکی ہو اسے ہی ریپیٹ کر لو۔“ کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر ڈال کر سنجیدگی سے کہہ کر وہ تو چلے گئے اور وشمہ تیکھی ان کے جملوں پر غور ہی کرتی رہی یہاں تک کہ صحن میں شام کی ہلچل محسوس ہونے لگی۔ امی نے چائے کے لیے اسے آواز دی تو وہ کتابیں یونہی چھوڑ کر باہر نکلی۔
پہلی نظر صحن کے وسط میں کرسی پر بیٹھے طلال پر ہی گئی ۔ ان کے ساتھ ہی امی اور نوید بھی کرسیاں ڈالے بیٹھے تھے۔ بیچ میں تپائی پر چائے کے برتن دھرے تھے۔ شام کے وقت سب آم کے گھنے پیڑ کے نیچے بیٹھنے سے احتراز ہی کرتے تھے۔ اس وقت پیڑ پر پرندوں کی اجارہ داری ہوتی تھی۔ بغیر لحاظ کے ان کے فضلات چھپا چھپ نیچے گرتے تھے۔
Milne Ki Ghari Jo Thehri Hai By Rizwana Ameer Ul Haq Complete - ZNZ NOVELS
📚 Explore novels from different categories including:
Milne Ki Ghari Jo Thehri Hai By Rizwana Ameer Ul Haq Complete - ZNZ NOVELS
Novel name_ Milny ki ghari jo thahri hai” published in Kiran digest October 2003
Writer_Razwana Ameerul Haq
Pages_ 25
Meri old sharing se select hero teacher based nice family story hai with mature writing must read🙂♥️🌹
Hero Talal aur heroin Wisha apas maiczns hain😍Heroin study mai weak hai hero tution deta hai🌹
Rude hero funny aur happy ending hai❤❤👩❤️💋👨
Milne Ki Ghari Jo Thehri Hai By Rizwana Ameer Ul Haq Complete - ZNZ NOVELS
🔍 Visit ZNZ NOVELS to discover more heartfelt Urdu stories by famous writers and enjoy free online reading and downloading.
Milne Ki Ghari Jo Thehri Hai By Rizwana Ameer Ul Haq Complete - ZNZ NOVELS
👉 Stay connected with ZNZ NOVELS for daily updates of the latest Urdu novels and complete stories.

No comments:
Post a Comment